مرحباً بك زائرنا الكريم .. لك حرية الإستفادة والنشر
مسلمانوں كے افكار وخيالات ومقاصد ميں اتحاد واتفاق پيدا كرنا اسلام كے اهم تقاضوں ميں سے ہے۔ نيز قوت ، ترقى اور اصلاح كے وسائل ميں سے ہے۔ اور يہ قرب واتحاد اهل اسلام كے افراد اور جماعتوں كے لئے ہرزمان ومكان ميں بهترين خير کا باعث رہا ہے .رسالہ مذکورمیں شیعہ سنی اتحاد اور اسکی ناكامى كے اسباب كو درج ذيل عنوانات كے تحت واضح كيا گياهے: 1- شيعہ سنى افتراق كا بنيادى سبب. 2- مسئله تقيہ. 3-قرآن كريم پر طعن. 4-مصر ميں عيسائى مشنريوں كے لئے شيعوں كا عقيده تحريفِ قرآن اور اس كے اثبات پر كتب كى اشاعت باعث خوشى. 5- اماموں كے غيب دان هونے كا دعوى اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم كى وحى كا انكار. 6- اصول اسلام میں شیعہ کا اختلاف7- شیعہ کا مقصد صرف اپنے مذہب کی اشاعت نہ کہ اتحاد کا قیام.
Author: محب الدین الخطیب
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
Translators: شمس الدين احمد قريشى
Publisher: www.aqeedeh.com فارسی زبان میں
مرحباً بك زائرنا الكريم .. لك حرية الإستفادة والنشر
زیر نظر رسالہ میں امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے’ پھر قرآن کریم اور حدیث شریف سے ان کے فضائل ذکر کئے گئے ہیں.پھر اہل بیت کے ضمن میں انکے فضائل کو عمومى طور پر بیان کیا گیا ہے ’ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کے فضائل خصوصی طور سے بھی نقل کئے گئے ہیں.
Publisher: مركز البحوث في مبرة الآل والأصحاب
-
Author: محمد صالح المنجد
Translators: مشتاق احمد كريمي
Publisher: الہلال ایجوکیشنل سوسائٹی کٹیہار- انڈیا
Source: http://www.islamhouse.com/p/59
قام بترجمة المعاني فضيلة الشيخ محمد الجونا كرهي. مع تفسير فضيلة الشيخ صلاح الدين يوسف. وراجعها من قبل المجمع كل من فضيلة الشيخين د. وصي الله بن محمد عباس و د. أختر جمال لقمان.
Publisher: شاہ فہد کمپلیکس برائے قرآن کریم پرنٹنگ مدینہ منورہ
Source: http://www.islamhouse.com/p/93
كتابِ مذکور میں بدعت کی تعریف ،اسکے اقسام ،اسکے انتشارکے اسباب ، اور اس سے نجات پانے کے ذرائع کے سلسلے میں کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت ہی عمدہ معلومات پیش کی گئی ہیں.
Reveiwers: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
-
Author: شيخ الاسلام ابن تيمية
Reveiwers: صفي الرحمن المباركفوري - مشتاق احمد كريمي
Translators: مقصود الحسن الفيضي
Publisher: وزارت برائے اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد ریاض
Source: http://www.islamhouse.com/p/69